22 مارچ 2014 - 19:30
پاکستان کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے- مرکزی ناظم اعلی جماعت اہل سنت

علامہ سید ریاض حسین شاہ اہل سنت بریلوی کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم جماعت اہل سنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی ہیں انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز اہل سنت بریلوی کی مقبول طلباء تنظیم انجمن طلباء اسلام سے کیا اور پھر انہوں نے راولپنڈی میں ادارہ تعلمیات اسلامیہ قائم کیا جس کے وہ اب تک ڈائریکٹر ہیں ، وہ شریف بردران کی دعوت پر ایک عرصہ تک اتفاق مسجد میں خطبہ جمعہ بھی دیتے رہے اور اس وقت ان کا شمار اہل سنت بریلوی کے انتہائی اہم اور مقبول رہنماؤں میں ہوتا ہے.

ابنا: علامہ سید ریاض حسین شاہ اہل سنت بریلوی کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم جماعت اہل سنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی ہیں انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز اہل سنت بریلوی کی مقبول طلباء تنظیم انجمن طلباء اسلام سے کیا اور پھر انہوں نے راولپنڈی میں ادارہ تعلمیات اسلامیہ قائم کیا جس کے وہ اب تک ڈائریکٹر ہیں ، وہ شریف بردران کی دعوت پر ایک عرصہ تک اتفاق مسجد میں خطبہ جمعہ بھی دیتے رہے اور اس وقت ان کا شمار اہل سنت بریلوی کے انتہائی اہم اور مقبول رہنماؤں میں ہوتا ہےادارہ تعمیر پاکستان نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے پاکستان کے اندر دیوبندی تکفیری فتنے اور پوری دنیا میں اٹھنے والے سلفی دیوبندی فتنے ،دھشت گردی،پاکستانی حکومت کا کردار اور موجودہ حاکموں کی عرب ریاستوں کے ساتھ پیار کی نئی پینگیں بڑھانے پر ان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے بہت صاف اور شفاف طریقے سے بہت جرات اور ہمت سے جوابات مرحمت کئے جو ادارہ تعمیر پاکستان کی ویب سائٹ بڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنیں گےمحمد بن ابی بکر مدیر تعمیر پاکستان ویب سائٹ**********تعمیر پاکستان : بہت شکریہ علامہ صاحب آپ نے ہمارے لیے وقت نکالا،یہ بتلائیے کہ حکومت اس وقت جو دیوبندی عسکری تنظیموں کی چھتری ٹی ٹی پی سے مذاکرات کررہی ہے کیا آپ اس کی حمائت کرتے ہیں؟ریاض حسین شاہ: آپ کا بھی بہت شکریہ، تحریک طالبان پاکستان ہو یا دیگر وہ ست تنظیمیں جو اس وقت سب کو پتہ ہے کہ دیوبندی فرقے سے تعلق رکھتی ہیں جو نہ صرف اس ملک میں بلکہ اس سے باہر بھی دھشت گردی کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے دھشت گرد ہونے میں کوئی شک نہیں ہے تو ریاست بھلا کیسے دھشت گردوں سے مذاکرات کرسکتی ہےاسلامی ریاست کا جو باغی ہوتا ہے اس سے ریاست ایک ہی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بغاوت ترک کرے اور اس دوران اگر وہ سنگین جرم کا مرتکب ہوا تو اس کی سزا اسے ملنی چاہئیےاہل سنت بریلوی اور ان کی نمائندہ تنظیمیں جن میں جماعت اہل سنت بھی شامل ہے ٹی ٹی پی سمیت کسی بھی دیوبندی دھشت گرد تںظیم سے مذاکرات کی حمائت نہیں کرتیں ان کا اتفاق یہ ہے کہ دھشت گرد ہتھیار ڈال دیں اور خود کو ریاست کے آگے سرنڈر کردیں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئیےتعمیر پاکستان: دیوبندی فرقے کا ایک متفقہ اجتماع ملتان میں ہوا جس میں دیوبندی مولویوں نے یہ دعوی کیا کہ دیوبندی مدارس انگریز سامراج کے خلاف لڑے ،پھر یہ سویت روس کے خلاف جہاد کرتے رہے اور اب یہ امریکہ سامراج کے خلاف لڑ رہے ہیں ،اس دعوے میں کہاں تک صداقت ہےریاض حسین شاہ: میں بہت معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ دیوبندی فرقے کے مولویوں اور کرتا دھرتاؤں کو حقائق کو مسخ کرنے اور اپنے اکابرین کے بارے میں جھوٹ عظمت کے قصّے گھڑنے میں مہارت تامہ حاصل ہےدیوبند میں جو مدرسہ 1866ء میں دیوبندی فرقے کے بانیوں نے تشکیل دیا تو وہ انگریز سرکار کی مدد سے بنا تھا اور مولوی قاسم ناناتوی نے 1857ء کی جنگ آزادی میں کوئی حصّہ نہیں لیا اور مولوی زوالفقار دیوبندی تو انگریزی اسکولوں کے انسپکٹر رہے اور انہوں نے انگریز سرکار سے اس مدرسہ کے قیام کے لیے پیسے وصول کئے تھے ،اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ دیوبندی مفتی نام نہاد شیخ الاسلام رشید احمد گنگوہی سمیت بانیان مدرسہ دیوبند تو مولوی اسماعیل دھلوی سے متاثر تھے جس کو انگریزوں نے سکھوں اور پٹھان مسلمانوں کے خلاف کھڑا کیا تھا جس نے ہندوستان میں سلفی وہابی تکفیری عقائد کا پرچار کیادیوبندی فرقے کا جہاد اصل میں ہمیشہ سامراج کے ساتھ اور آل سعود کے ساتھ اشتراک میں وقوع ہوتا رہا ہےاسماعیل دھلوی نے ابن سعود اور برٹش کی مدد سے نام نہاد تحریک جہاد کی بنیاد رکھی اور اس نے پٹھان مسلمانوں کو کافر قرار دیکر ان کے خلاف قتال و جنگ کو جائز قرار دیااور 1980ء میں دیوبندی مدارس کے طلباء اور ان کے زیر اثر نوجوانوں کو سی آئی اے،سعودی عرب اور آئي ایس آئی کے تحت چلنے والے جہادی پروجیکٹ کا حصّہ بنایا گیااور نائن الیون کے بعد سے دیوبندی فرقے کے لوگ اور تںطیمں سعودی عرب، بھارت،افغانستان اور کئی ملکوں کے بھاڑے کے ٹٹو بنے ہوئے ہیں اور یہ امریکہ سے کوئی لڑائی نہیں لڑ رہے بلکہ افغانستان، پاکستان، ہندوستان ، بنگلہ دیش میں مسلمانوں اور معصوم غیر مسلم اقلیتوںکے خلاف دھشت گردی کی کاروائیاں کررہے ہیں اور اسے یہ سامراج امریکہ سے جہاد کہتے ہیں حالانکہ دیوبندی فرقے کے رہنماء صرف پیٹرو ریال بٹورنے کے لیے اپنے نوجوانوں کو دھشت گرد بنا رہے ہیںتعمیر پاکستان : پاکستانی مین سٹریم میڈیا کا ایک سیکشن یہ کہہ رہا ہے کہ عالم اسلام میں شیعہ توسیع پسندی کا خطرہ بڑھتا چلا جارہا ہے اور مڈل ایسٹ و جنوبی ایشیا میں سنّی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جارہا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایران سنی حکومتوں کے لیے سخت خطرے کا باعث ہے،اس تجزئے کی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ عالم اسلام میں اس وقت مذھب کے بنیاد پر جو دھشت گردی ہے وہ شیعہ-سنّی تنازعے کا نتیجہ ہے،آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں؟ریاض حسین شاہ: دیکھئے پہلے میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا میں اہل سنت جن کو تصوف کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے کے شیعہ کے ساتھ کوئی مسائل نہيں ہیں دونوں مکاتب فکر جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیںشیعہ توسیع پسندی یا شیعہ سے سنّی کی بقاء کو خطرات لاحق ہونے کا مفروضہ اور پروپیگنڈا سعودی عرب کی حکومت،سلفی وہابی اور دیوبندی حضرات کرتے ہیں جن کا اصل میں سنّیت اور اہل سنت سے کوئی رشتہ تعلق نہیں ہےمیرے خیال میں گلف کی ریاستیں خاص طور پر سعودیہ عرب،بحرین ،متحدہ عرب امارات،کویت وغیرہ کے حکمران چونکہ ایک اقلیتی وہابی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ وہ حکومتیں ہیں جو برطانوی سامراج کے تعاون سے وہابی پروجکیٹ کو عرب خطے میں پروان چڑھانے کے نتیجے میں سامنے آئی تھیں اور پھر ان حکومتوں کو امریکی سامراج نے گود لے لیا اور یہ اقلیتی ٹولہ مسلمانوں کی اکثریت کی منشاء اور عقائد کے خلاف زبردستی وہابی خیالات کو نافذ اور پھیلاتا آیا ہے،اب جب عرب بہار جیسے اور ایران و مغرب کے درمیان عرصے بعد برف پگھلی ہے تو اس ٹولے کو اپنا اقتدار جاتا ہوا لگ رہا ہے تو یہ اس ڈگمگاتی کشتی کو بچانے کے لیے وہابی –دیوبندی خارجی ٹولے پر سرمایہ کاری کررہے ہیںیہ وہابی اور دیوبندی سعودی عرب کی امداد اور 1980ء کی دھائی سے چلے آرہے بڑے دھشت گرد نیٹ ورک سے اپنی خارجی انتہا پسند روش کو سنّی ازم کا نام دیتے ہیں اور یہ انے دھشت گردوں کے ہاتھوں سنّی عوام ،سنّی علماء ،سنّی مشائخ ،بزرگان دین کے مزارات اور ان کے مخصوص ایام کی تقریبات پر حملے کراتے ہیں جیسے یہ شیعہ اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف حملے کرتے ہیںمیں کہتا ہوں کہ اہل سنت بریلوی یا سنّی برادری کو وہابی تکفیری اور دیوبندی تکفیری خارجی انتہا پسندی اور دھشت گردی کا سامنا ہے اور عوام اہل سنت کو دیوبندی یا وہابی بنانے کے لیے لالچ سعودی امداد کی شکل میں یا جبر دونوں کا سامنا ہے اور یہ جو شرک،بدعت اور گمراہی کے خاتمے اور توحید و سنت کے پھیلاؤ کے نعرے ہیں یہ کھوکھلے ہیںسعودی عرب مسلم ملکوں میں شیعہ-سنّی خانہ جنگی کرانے کی خواہش رکھتا ہے اور اس آڑ میں اپنے پٹھوؤں کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہےتعمیر پاکستان: دیوبندی فرقے کی تمام تںظیموں کی نے وفاق المدارس کے بینر تلے ملتان میں ایک کانفرنس منعقد کی اور اس کانفرنس میں انہوں نے نفاز شریعت کا مطالبہ بھی کیا ،ایسا ہی مطالبہ دیوبندی دھشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی ہے کی طرف سے بھی آرہا ہے،اس حوالے سے جماعت اہل سنت کا موقف کیا ہے؟ریاض حسین شاہ: دیکھئے اس حوالے سے اہل سنت کا خیال یہ ہے کہ یہ مطالبہ اخلاص اور نیک نیتی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مخصوص برانڈ کی نام نہاد شریعت جسے میں تو دیوبندی فرقے کی سوچ کا پاکستان میں تسلط کرنے کی سازش کہتا ہوں نافذ کرنے کی کوشش ہے اور اس برانڈ کو چونکہ پاکستان کے عوام کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے تو اسے بندو‍ق اور سعودیہ عرب کے دباؤ کے زور پر مسلط کرنے کی سازش ہورہی ہےدیوبندی فرقے کے کرتا دھرتاؤں کا معاملہ یہ بنا ہوا ہے کہ ایک طرف تو وہ اپنے اندر سے اٹھنے والی دھشت گرد تنظیموں اور ان کے لوگوں کو بھی اپنے مفاد کی خاطے باقی رکھنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف ان صاحبان جبّہ و دستار نے خود کو آل سعود کا ایجنٹ مقرر کرلیا ہے اور یہ پاکستان کے اندر جنگ اور دھشت گردی کو روکنے کا نسخہ یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا جو دیوبندی براںڈ اسلام ہے جسے اسلام کہنا اسلام کی توھین ہے کو پاکستان پر نافذ کردیا جائے ،تو ایسی کانفرنسوں کا مقصد بندوق و بارود والی نام نہاد شریعت کو پاکستانی ریاست پر مسلط کرنا ہےتعمیر پاکستان: علمائے اہل سنت بریلوی میں بعض کے میاں نواز شریف اور ان کے خاندان سے کافی اچھے مراسم تھے اور ان میں کئی مسلم لیگ نواز کے ساتھ ملکر الیکشن بھی لڑتے تھے اگرچہ نورانی میاں اور ان کی پارٹی نواز شریف اور مسلم لیگ سے دور رہی ،لیکن اب دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اکثریت میاں نواز شریف سے نالاں ہے ،آپ خود بھی میاں صاحب کے قریب رہے ،آپ بھی مرحوم صاحبزادہ فضل کریم کی طرح ان سے دور نظر آرہے ہیں ،اس کی کیا وجہ ہے ؟ریاض حسین شاہ: میاں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف کے جامعہ نعمیہ،جامعہ ںظامیہ لاہور سمیت کئی بریلوی اداروں سے اچھے تعلقات رہے اور ان کا جھکاؤ بھی بریلوی مکتبہ فکر کی طرف رہا لیکن یہ معاملات ویسے نہیں رہے، میاں برادارن جب سعودیہ عرب سے جلاوطنی کاٹ کر ملک واپس آئے اور پنجاب میں انہوں نے حکومت قائم کی تو ان کا رخ سعودی عرب ،وہابی اور دیوبندی لوگوں کی جانب زیادہ ہوگیا اور پھر ان کے دور حکومت میں پنجاب کے اندر دیوبندی دھشت گردوں نے داتا دربار،امام بری سرکار سمیت کئی ایک اہل سنت کے مقامات پر حملہ کیا،ان کے دور میں ڈاکٹر نعیمی کی شہادت جیسا سانحہ ہوا اور میاں صاحبان نے وفاق میں حکومت آنے کے بعد مزید دشمنان اہل سنت کی طرف قدم بڑھایا اور اہل سنت (بریلوی) میں ان کی روش سے عدم تحفظ